بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج (23 ستمبر 2026ع) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر، ممالک کی خودمختاری، قومی حکمرانی کے احترام اور قیام امن کی ضرورت پر زور دیا۔
تیسری قسط:
ایران یہ نہیں مانتا کہ جوہری سائنس صرف چند ممالک کا خصوصی استحقاق ہو
ایران جوہری ہتھیاروں کو تحفظ کا ذریعہ نہیں سمجھتا، لیکن اپنے ـ پرامن جوہری سائنس، صنعت اور توانائی کے حصول کے ـ حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ہم دوٹوک الفاظ میں کہتے ہیں: "نہ جوہری ہتھیار" اور "نہ ہی جوہری سائنس سے محرومی۔"
ایران کے جوہری معاملے کا حل میدانِ جنگ میں ممکن نہیں ہے۔ اس کا حل ایک ایسے معاہدے میں مضمر ہے جو دنیا کو ایران کے پروگرام کی پرامن نوعیت کے بارے میں قابلِ اعتماد یقین دہانی کرائے اور ساتھ ہی ایرانی عوام کو بھی اس بات کا یقین دلائے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
ہمارا تیسرا اصول "امن کے لئے شراکت داری" ہے۔ ہم ایک ایسے خطے میں رہتے ہیں جہاں جنگ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور ایک ملک کا بحران پڑوسی ممالک میں سرایت کر جاتا جاتا ہے۔ نتیجتاً، ایران اپنے پڑوسیوں کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں سمجھتا؛ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پڑوسی مضبوط ہوں۔
ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ باقی سب تو آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھائیں لیکن ایران اس سے محروم رہے
جہاں تک آبنائے ہرمز کا تعلق ہے، تو یہ ایسی آبی گذرگاہ ہے جس سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم تاریخی طور پر اس کے محافظ ہیں، چنانچہ ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ ہمیں ـ یہاں تک کہ ہماری اپنی سمندری حدود میں بھی ـ جہازرانی کی آزادی سے محروم رکھا جائے۔
وہ ہمارا راستہ روکتے ہیں، مگر اسی آبی گذرگاہ سے ہتھیار، گولہ بارود، میزائل اور قوموں کو تباہ کرنے والے آلات منتقل کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے؛ وہ ایسا نہیں کر سکتے اور ہم اپنے ملک کے لئے ایسی صورتِ حال پیدا نہیں ہونے دیں گے۔
دشمن بحری بیڑوں کی مستقل تعیناتی اور جنگ کا پھیلاؤ تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ ساحلی ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچا کر جہازرانی کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
فلسطین کو انصاف فراہم کئے بغیر مغربی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوگا
فلسطین کی صورتحال انتہائی سنگین ہے؛ وہاں کے عام شہریوں کی تکالیف کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ قراردادیں تو منظور کی جاتی ہیں، مگر قبضے اور تشدد کا سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے۔
ہم فلسطین کو نظر انداز کر کے امن کی بات نہیں کر سکتے۔ مغربی ایشیا میں پائیدار امن، فلسطین کو انصاف فراہم کئے بغیر قائم نہیں ہوگا۔
جب تک دنیا میں قبضہ، جارحیت اور ناانصافی موجود رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ اگر مزاحمت کی ایک شکل کو نقصان پہنچایا جائے تو یہ دوسری ـ اور شاید کہیں زیادہ طاقتور ـ شکلوں میں دوبارہ ابھر کر سامنے آئے گی۔
وسیع پیمانے پر ہونے والے قتلِ عام اور تباہی کے باوجود، غزہ نے عوام کے اس پختہ یقین کو آشکار کر دیا ہے کہ مزاحمت کو بموں اور ناکہ بندیوں کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ